حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آغازِ سفر آن لائن پروگرام کے دوران مولانا سید منظور علی نقوی امروہوی نے درسِ نہج البلاغہ کے ضمن میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے ایک اہم فرمان پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ آپ نے اس حدیث کو نقل کیا:"خَالِطُوا النَّاسَ مُخَالَطَةً اِنْ مِّتُّمْ مَّعَهَا بَكَوْا عَلَیْكُمْ، وَ اِنْ عِشْتُمْ حَنُّوا اِلَیْكُمْ" یعنی: لوگوں سے اس طرح میل جول رکھو کہ اگر تم وفات پا جاؤ تو وہ تم پر گریہ کریں، اور اگر زندہ رہو تو تم سے محبت کریں۔
مولانا سید منظور علی نقوی نے اس حدیث کے مفہوم کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ مولا علی علیہ السلام نے ہمیں یہ درس دیا ہے کہ اپنے اخلاق و کردار کو اس قدر بلند بناؤ کہ لوگ تمہاری جدائی پر غمگین ہوں اور زندگی میں تمہیں عزت و محبت کی نگاہ سے دیکھیں۔ جب انسان نرمی، سچائی اور حسنِ سلوک کے ساتھ لوگوں سے پیش آتا ہے تو وہ ان کے دلوں میں جگہ بنا لیتا ہے اور مرنے کے بعد بھی احترام کے ساتھ یاد رکھا جاتا ہے۔

زندگی میں حسنِ سلوک کی اہمیت
مولانا نے اس بات پر زور دیا کہ ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں اخلاقی اقدار اور حسنِ سلوک کو اپنانا بھی نہایت ضروری ہے۔ انسان کو ایسا کردار اپنانا چاہیے کہ اس کی موجودگی دوسروں کے لیے راحت کا باعث ہو اور وہ کسی کو اذیت یا تکلیف نہ پہنچائے۔ جب انسان اپنے اخلاق کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں مقام حاصل کرتا ہے تو اس کی زندگی بھی پُرسکون ہو جاتی ہے اور وہ مرنے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے۔
تین اہم رضایتیں
مولانا سید منظور علی نقوی نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کامیاب زندگی کے لیے تین بنیادی رضایتوں کا حصول ضروری ہے:
خداوندِ متعال کی رضایت: انسان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کوشش کرے اور اس کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط بنائے۔
وقت کے امام کی رضایت: امام زمانہ علیہ السلام کی محبت اور رہنمائی انسان کی روحانی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
خود کی رضایت: انسان کو اپنے اصولوں اور اخلاقی معیار کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے تاکہ اسے قلبی سکون حاصل ہو۔

مولانا نے کہا کہ جب انسان ان تینوں رضایتوں کو حاصل کر لیتا ہے تو اس کی زندگی میں ایک خاص قسم کا سکون اور خوشی پیدا ہو جاتی ہے، اس کی روحانی بلندی واضح ہو جاتی ہے اور وہ دنیا و آخرت میں کامیابی کی راہوں پر گامزن ہو جاتا ہے۔
درس کے اختتام پر مولانا سید منظور علی نقوی نے نہج البلاغہ کے اس فرمان کی روشنی میں اس بات پر زور دیا کہ انسان کو اپنی زندگی میں اخلاق، محبت اور حسنِ سلوک کو اپنانا چاہیے۔ جب انسان اپنے اخلاق سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بناتا ہے تو وہ نہ صرف زندگی میں محبت اور احترام حاصل کرتا ہے بلکہ وفات کے بعد بھی عزت و احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی خدا، امام اور خود کی رضایت کا حصول انسان کی کامیاب اور بامقصد زندگی کی ضمانت ہے۔









آپ کا تبصرہ